اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے مخالف سیکڑوں افراد نے جنگ عراق کے آغاز کے بارہ سال پورے ہونے پر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس سے لے کر امریکی کانگرس کی عمارت تک احتجاجی جلوس نکالا۔
مظاہرین نے مشرق وسطی خاص طور پر عراق اور افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی، پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملوں، یوکرین اور مشرقی یورپ میں روس کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات اور ایران کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی پر احتجاج کیا۔
احتجاجی مظاہرین علامتی تابوت بھی اٹھا ہوئے تھے جو انھوں نے وائٹ ہاؤس اور کانگرس کے ارکان کے دفاتر کے سامنے زمین پر رکھ دیے۔
انسیر تحریک کے ارکان نے بھی جو گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے کچھ ہی عرصے بعد قائم کی گئی، اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ انسیر تحریک کے سربراہ برائن بیکر نے کہا کہ ہم امریکہ کے صدر اور کانگرس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عراق میں ایک نہ ختم ہونے والی نئی جنگ کا فرمان جاری نہ کریں، کیونکہ عراق پر بمباری اس ملک کےعوام کی مشکلات اورمسائل کو حل نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام یہ نہیں چاہتے ہیں۔
انسیر تحریک کے چیف آرگنائزر یوجین پورییر نے بھی کہا کہ اپنی قلمرو کا دائرہ پھیلانے کے لیے لامحدود جنگ، عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ اور دنیا کے گوشہ و کنار میں ڈرون طیاروں کے ذریعے جنگ کا سلسلہ اب جاری نہیں رہ سکے گا کیونکہ ان جنگوں نے حکمرانی کو پھیلانے کے لیے امریکی عوام کا خون چوسا ہے اور اس کے خزانوں کو خالی کر دیا ہے۔
.....
/169